Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — التكوير 81:1 – المطففين 83:36

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. التكوير 81:1
  2. التكوير 81:2
  3. التكوير 81:3
  4. التكوير 81:4
  5. التكوير 81:5
  6. التكوير 81:6
  7. التكوير 81:7
  8. التكوير 81:8
  9. التكوير 81:9
  10. التكوير 81:10
  11. التكوير 81:11
  12. التكوير 81:12
  13. التكوير 81:13
  14. التكوير 81:14
  15. التكوير 81:15
  16. التكوير 81:16
  17. التكوير 81:17
  18. التكوير 81:18
  19. التكوير 81:19
  20. التكوير 81:20
  21. التكوير 81:21
  22. التكوير 81:22
  23. التكوير 81:23
  24. التكوير 81:24
  25. التكوير 81:25
  26. التكوير 81:26
  27. التكوير 81:27
  28. التكوير 81:28
  29. التكوير 81:29
  30. الانفطار 82:1
  31. الانفطار 82:2
  32. الانفطار 82:3
  33. الانفطار 82:4
  34. الانفطار 82:5
  35. الانفطار 82:6
  36. الانفطار 82:7
  37. الانفطار 82:8
  38. الانفطار 82:9
  39. الانفطار 82:10
  40. الانفطار 82:11
  41. الانفطار 82:12
  42. الانفطار 82:13
  43. الانفطار 82:14
  44. الانفطار 82:15
  45. الانفطار 82:16
  46. الانفطار 82:17
  47. الانفطار 82:18
  48. الانفطار 82:19
  49. المطففين 83:1
  50. المطففين 83:2
  51. المطففين 83:3
  52. المطففين 83:4
  53. المطففين 83:5
  54. المطففين 83:6
  55. المطففين 83:7
  56. المطففين 83:8
  57. المطففين 83:9
  58. المطففين 83:10
  59. المطففين 83:11
  60. المطففين 83:12
  61. المطففين 83:13
  62. المطففين 83:14
  63. المطففين 83:15
  64. المطففين 83:16
  65. المطففين 83:17
  66. المطففين 83:18
  67. المطففين 83:19
  68. المطففين 83:20
  69. المطففين 83:21
  70. المطففين 83:22
  71. المطففين 83:23
  72. المطففين 83:24
  73. المطففين 83:25
  74. المطففين 83:26
  75. المطففين 83:27
  76. المطففين 83:28
  77. المطففين 83:29
  78. المطففين 83:30
  79. المطففين 83:31
  80. المطففين 83:32
  81. المطففين 83:33
  82. المطففين 83:34
  83. المطففين 83:35
  84. المطففين 83:36

التكوير 81:1

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:2

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:3

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:4

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:5

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:6

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:7

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:8

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:9

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:10

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:11

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:12

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:13

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:14

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔

التكوير 81:15

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:16

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:17

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:18

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:19

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:20

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:21

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:22

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:23

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:24

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:25

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:26

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:27

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:28

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التكوير 81:29

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الانفطار 82:1

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔

الانفطار 82:2

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔

الانفطار 82:3

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔

الانفطار 82:4

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔

الانفطار 82:5

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔

الانفطار 82:6

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:7

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:8

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:9

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:10

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:11

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:12

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

الانفطار 82:13

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

الانفطار 82:14

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

الانفطار 82:15

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

الانفطار 82:16

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

الانفطار 82:17

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

الانفطار 82:18

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

الانفطار 82:19

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

المطففين 83:1

ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔

المطففين 83:2

ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔

المطففين 83:3

ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔

المطففين 83:4

ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔

المطففين 83:5

ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔

المطففين 83:6

ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔

المطففين 83:7

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:8

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:9

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:10

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:11

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:12

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:13

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:14

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:15

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:16

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:17

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17) [9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔ [13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ [17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔

المطففين 83:18

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:19

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:20

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:21

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:22

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:23

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:24

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:25

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:26

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:27

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:28

یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28) [21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔ [28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔

المطففين 83:29

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:30

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:31

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:32

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:33

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:34

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:35

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔

المطففين 83:36

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36) [29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔ [36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔