Tafsir As-Saadi - Urdu — الانشقاق 84:1 – البروج 85:22
Contents
- الانشقاق 84:1
- الانشقاق 84:2
- الانشقاق 84:3
- الانشقاق 84:4
- الانشقاق 84:5
- الانشقاق 84:6
- الانشقاق 84:7
- الانشقاق 84:8
- الانشقاق 84:9
- الانشقاق 84:10
- الانشقاق 84:11
- الانشقاق 84:12
- الانشقاق 84:13
- الانشقاق 84:14
- الانشقاق 84:15
- الانشقاق 84:16
- الانشقاق 84:17
- الانشقاق 84:18
- الانشقاق 84:19
- الانشقاق 84:20
- الانشقاق 84:21
- الانشقاق 84:22
- الانشقاق 84:23
- الانشقاق 84:24
- الانشقاق 84:25
- البروج 85:1
- البروج 85:2
- البروج 85:3
- البروج 85:4
- البروج 85:5
- البروج 85:6
- البروج 85:7
- البروج 85:8
- البروج 85:9
- البروج 85:10
- البروج 85:11
- البروج 85:12
- البروج 85:13
- البروج 85:14
- البروج 85:15
- البروج 85:16
- البروج 85:17
- البروج 85:18
- البروج 85:19
- البروج 85:20
- البروج 85:21
- البروج 85:22
الانشقاق 84:1
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:2
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:3
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:4
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:5
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:6
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:7
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:8
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:9
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:10
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:11
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:12
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:13
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:14
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:15
جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
الانشقاق 84:16
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:17
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:18
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:19
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:20
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:21
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:22
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:23
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:24
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
الانشقاق 84:25
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
البروج 85:1
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:2
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:3
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:4
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:5
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:6
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:7
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:8
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:9
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:10
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:11
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:12
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:13
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:14
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:15
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:16
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:17
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:18
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:19
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:20
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:21
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
البروج 85:22
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
[16]﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ﴾ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
[17، 18] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ﴿هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ الۡجُنُوۡدِۙ۰۰ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے۔ فرعون اور ثمود کا؟‘‘ انھوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
[19]﴿بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ تَكۡذِيۡبٍ﴾ بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں۔ آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔
[20]﴿وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾(الفجر:89؍14)’’بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ان آیات کریمہ میں کافروں کے لیے عقوبت کی سخت وعید ہے جو اس کے قبضۂ قدرت میں اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
[21، 22]﴿بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ﴾ ’’بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔‘‘ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِيۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔