Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الطارق 86:1 – الغاشية 88:26

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الطارق 86:1
  2. الطارق 86:2
  3. الطارق 86:3
  4. الطارق 86:4
  5. الطارق 86:5
  6. الطارق 86:6
  7. الطارق 86:7
  8. الطارق 86:8
  9. الطارق 86:9
  10. الطارق 86:10
  11. الطارق 86:11
  12. الطارق 86:12
  13. الطارق 86:13
  14. الطارق 86:14
  15. الطارق 86:15
  16. الطارق 86:16
  17. الطارق 86:17
  18. الأعلى 87:1
  19. الأعلى 87:2
  20. الأعلى 87:3
  21. الأعلى 87:4
  22. الأعلى 87:5
  23. الأعلى 87:6
  24. الأعلى 87:7
  25. الأعلى 87:8
  26. الأعلى 87:9
  27. الأعلى 87:10
  28. الأعلى 87:11
  29. الأعلى 87:12
  30. الأعلى 87:13
  31. الأعلى 87:14
  32. الأعلى 87:15
  33. الأعلى 87:16
  34. الأعلى 87:17
  35. الأعلى 87:18
  36. الأعلى 87:19
  37. الغاشية 88:1
  38. الغاشية 88:2
  39. الغاشية 88:3
  40. الغاشية 88:4
  41. الغاشية 88:5
  42. الغاشية 88:6
  43. الغاشية 88:7
  44. الغاشية 88:8
  45. الغاشية 88:9
  46. الغاشية 88:10
  47. الغاشية 88:11
  48. الغاشية 88:12
  49. الغاشية 88:13
  50. الغاشية 88:14
  51. الغاشية 88:15
  52. الغاشية 88:16
  53. الغاشية 88:17
  54. الغاشية 88:18
  55. الغاشية 88:19
  56. الغاشية 88:20
  57. الغاشية 88:21
  58. الغاشية 88:22
  59. الغاشية 88:23
  60. الغاشية 88:24
  61. الغاشية 88:25
  62. الغاشية 88:26

الطارق 86:1

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:2

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:3

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:4

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:5

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:6

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:7

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:8

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:9

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:10

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:11

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:12

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:13

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:14

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:15

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:16

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الطارق 86:17

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ [7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ [10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔ [14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔ [17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

الأعلى 87:1

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:2

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:3

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:4

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:5

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:6

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:7

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:8

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:9

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:10

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:11

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:12

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:13

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:14

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:15

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:16

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:17

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:18

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الأعلى 87:19

آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔ [4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔ [6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ [8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔ [13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ [14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔ [16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔ [18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

الغاشية 88:1

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:2

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:3

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:4

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:5

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:6

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:7

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:8

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:9

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:10

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:11

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:12

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:13

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:14

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:15

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:16

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

الغاشية 88:17

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:18

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:19

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:20

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:21

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:22

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:23

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:24

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:25

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغاشية 88:26

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔