Tafsir As-Saadi - Urdu — الفجر 89:1 – الشمس 91:15
Contents
- الفجر 89:1
- الفجر 89:2
- الفجر 89:3
- الفجر 89:4
- الفجر 89:5
- الفجر 89:6
- الفجر 89:7
- الفجر 89:8
- الفجر 89:9
- الفجر 89:10
- الفجر 89:11
- الفجر 89:12
- الفجر 89:13
- الفجر 89:14
- الفجر 89:15
- الفجر 89:16
- الفجر 89:17
- الفجر 89:18
- الفجر 89:19
- الفجر 89:20
- الفجر 89:21
- الفجر 89:22
- الفجر 89:23
- الفجر 89:24
- الفجر 89:25
- الفجر 89:26
- الفجر 89:27
- الفجر 89:28
- الفجر 89:29
- الفجر 89:30
- البلد 90:1
- البلد 90:2
- البلد 90:3
- البلد 90:4
- البلد 90:5
- البلد 90:6
- البلد 90:7
- البلد 90:8
- البلد 90:9
- البلد 90:10
- البلد 90:11
- البلد 90:12
- البلد 90:13
- البلد 90:14
- البلد 90:15
- البلد 90:16
- البلد 90:17
- البلد 90:18
- البلد 90:19
- البلد 90:20
- الشمس 91:1
- الشمس 91:2
- الشمس 91:3
- الشمس 91:4
- الشمس 91:5
- الشمس 91:6
- الشمس 91:7
- الشمس 91:8
- الشمس 91:9
- الشمس 91:10
- الشمس 91:11
- الشمس 91:12
- الشمس 91:13
- الشمس 91:14
- الشمس 91:15
الفجر 89:1
قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
الفجر 89:2
قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
الفجر 89:3
قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
الفجر 89:4
قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
الفجر 89:5
قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
الفجر 89:6
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:7
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:8
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:9
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:10
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:11
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:12
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:13
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:14
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
الفجر 89:15
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
الفجر 89:16
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
الفجر 89:17
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
الفجر 89:18
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
الفجر 89:19
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
الفجر 89:20
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
الفجر 89:21
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:22
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:23
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:24
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:25
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:26
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:27
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:28
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:29
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
الفجر 89:30
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
البلد 90:1
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:2
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:3
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:4
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:5
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:6
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:7
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:8
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:9
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:10
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:11
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:12
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:13
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:14
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:15
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:16
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:17
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:18
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:19
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
البلد 90:20
قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!
[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔
[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔
[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔
[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
الشمس 91:1
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:2
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:3
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:4
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:5
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:6
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:7
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:8
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:9
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:10
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:11
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:12
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:13
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:14
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
الشمس 91:15
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔