Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الليل 92:1 – التين 95:8

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الليل 92:1
  2. الليل 92:2
  3. الليل 92:3
  4. الليل 92:4
  5. الليل 92:5
  6. الليل 92:6
  7. الليل 92:7
  8. الليل 92:8
  9. الليل 92:9
  10. الليل 92:10
  11. الليل 92:11
  12. الليل 92:12
  13. الليل 92:13
  14. الليل 92:14
  15. الليل 92:15
  16. الليل 92:16
  17. الليل 92:17
  18. الليل 92:18
  19. الليل 92:19
  20. الليل 92:20
  21. الليل 92:21
  22. الضحى 93:1
  23. الضحى 93:2
  24. الضحى 93:3
  25. الضحى 93:4
  26. الضحى 93:5
  27. الضحى 93:6
  28. الضحى 93:7
  29. الضحى 93:8
  30. الضحى 93:9
  31. الضحى 93:10
  32. الضحى 93:11
  33. الشرح 94:1
  34. الشرح 94:2
  35. الشرح 94:3
  36. الشرح 94:4
  37. الشرح 94:5
  38. الشرح 94:6
  39. الشرح 94:7
  40. الشرح 94:8
  41. التين 95:1
  42. التين 95:2
  43. التين 95:3
  44. التين 95:4
  45. التين 95:5
  46. التين 95:6
  47. التين 95:7
  48. التين 95:8

الليل 92:1

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:2

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:3

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:4

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:5

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:6

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:7

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:8

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:9

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:10

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:11

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:12

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:13

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:14

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:15

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:16

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:17

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:18

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:19

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:20

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الليل 92:21

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔ [3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. [4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔ [7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔ [10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ [12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔ [13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ [16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔ [21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

الضحى 93:1

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:2

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:3

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:4

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:5

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:6

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:7

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:8

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:9

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:10

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الضحى 93:11

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔ [4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔ [5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ [8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔ [11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

الشرح 94:1

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:2

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:3

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:4

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:5

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:6

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:7

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

الشرح 94:8

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔ [5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

التين 95:1

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:2

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:3

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:4

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:5

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:6

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:7

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

التين 95:8

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔ [4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔ [5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔ [7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔